Friday, April 08, 2011

Precious Poetry



                           احمد فراز

زلف راتوں سی ہے رنگت اجالوں جیسی
  پر طبیعت وہی ہے بھولنے والوں جیسی

اک زمانے کی رفاقت بھی  رم خوردہ ہے  
  اس کم آمیز کی خو بو ہے غزا لوں جیسی

  ڈھونڈتا پھرتا ہوں لوگوں میں شباہت اسکی 
کہ وو خوابوں میں بھی لگتی ہے خیالوں جیسی 

  کس دل آزار مسافت سے میں نکلا ہوں کہ ہے 
آنسوؤں میں بھی ٹپک پاؤں کہ چھالوں جیسی 

اسکی باتیں بھی دل آویز ہیں صورت کی طرح 
میری سوچیں بھی پریشان ہیں میرے بالوں جیسی
  
اسکی آنکھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز 
سونے والوں کی طرح جاگنے والوں جیسی